![]() |
| Internet |
By:: Fizan Akbar
عداد و شمار کی رو سے پاکستان میں تین کروڑ سے زائد شہری نیٹ استعمال کرتے ہیں۔ ایک کروڑ سے زائد فیس بک پر اکاؤنٹ رکھتے ہیں۔ ٹوئٹر پاکستانیوں میں مقبول دوسری سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ہے۔ اس پر بھی لاکھوں پاکستانی وزٹ کرتے ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان سائٹس سے وابستہ پاکستانیوں کی ’’90 فیصد‘‘ تعداد نوجوان ہے یعنی وہ تیرہ تا پینتیس سال عمر رکھتی ہے۔
سمارٹ فون اور انٹرنیٹ کی عام دستیابی نے اب خصوصاً پاکستانی شہروں میں نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ مرد و زن کو بھی اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کی وسیع و عریض اور عظیم الشان دنیا کا حصہ بن سکیں۔
آج ایک پاکستانی مزدور، دکان دار یا چوکیدار کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ فیس بک یا ٹوئٹر پر کھل کر اپنے خیالات و جذبات کا اظہار کرسکے۔ وہ چاہے تو کسی سیاسی رہنما کو تنقید کا نشانہ بنائے یا اس پر تعریف کے پھول برسائے۔
سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کا کردار اس اسلامی اصول کا جیتا جاگتا نمونہ ہے کہ تمام انسان برابر ہیں (اور صرف باتقویٰ لوگوں ہی کو دوسروں پر برتری حاصل ہے) ۔یہ وہ منفرد پلیٹ فارم ہے جہاں سبھی لوگ مل کر کسی مقامی یا عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کرسکتے ہیں، چاہے وہ ایک دوسرے سے ہزارہا میل دور بیٹھے ہوں۔
پاکستان میں خاص طور پر سوشل میڈیا نے عام انسان کو یہ شعور بخشا کہ وہ اپنے حقوق و فرائض جان سکے اور سیاسی طور پر یہ قیمتی آگہی دی کہ اس کا ووٹ ایک امانت ہے جسے دیانت دار، محبت وطن اور بااخلاص سیاست داں کے سپرد ہی ہونا چاہیے۔
یہ بات بہت خوش آئند ہے کہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر پاکستانی نوجوان نسل بہت متحرک ہے ۔وہ ذاتی دلچسپی کے علاوہ سماجی، سیاسی اور علمی موضوعات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے۔ انہی نوجوانوں نے پاکستان میں آن لائن سیاست کو بڑھاوا دیا اور اب وہ ترقی کی نئی منازل طے کررہی ہے۔
پاکستانی آن لائن سیاست عوام و خواص کی مشترکہ جدوجہد سے پروان چڑھ رہی ہے۔ چناں چہ یہ صلاحیت رکھتی ہے کہ پاکستانی سیاست جن برائیوں کا شکار ہے، مثلاً وی آئی پی کلچر، وراثتی گدی نشینی، کرپشن وغیرہ انہیں ختم کرسکے۔ آن لائن سیاست پاکستانیوں کو باور کراسکتی ہے کہ سیاسی شعبہ کمائی کا دھندا نہیں، بلکہ اس سے مراد ہے: عوام کی خدمت کرنا اور ملک و قوم کو ترقی دینا۔یاد رکھیے، یونانی فلسفی افلاطون نے ہزاروں سال قبل کہا تھا :
’’اگر ذہین اور قابل لوگ سیاست میں نہ آئیں، تو ایک قوم پہ پست ذہنیت کے افراد حکومت کرنے لگتے ہیں۔‘‘

No comments:
Post a Comment